بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ
Picture 2

مسلمانوں کے موجودہ حالات –اسباب وعلاج

مسلمانوں کے موجودہ حالات –اسباب وعلاج

تحریر:مقبول احمد سلفی

داعی/اسلامک دعوۃ سنٹرطائف

مسلمانوں کی موجودہ صورت حال بیحد افسوس ناک اور ناقابل تحریر ہے ۔ ہرجگہ مسلمان ظلم وزیادتی، خوف ودہشت، قتل وفساد، جبروتشدداورذلت وپستی کے شکار ہیں۔ کہیں پر داڑھی رکھنے پر پابندی، کہیں پراذان پر پابندی، کہیں پر تعمیرمسجدومدرسہ پر پابندی، کہیں پر حجاب پر پابندی، کہیں پر اسلامی ادارہ پر پابندی ،کہیں پر اسلامی فنکشن پر پابندی تو کہیں پر اسلامی قانون واسلامی شعائر پر پابندی پائی جاتی ہے گویا ہم اپنی پستی کی وجہ سے چہار دانگ عالم میں مظلوم ومقہور ہیں ۔ان حالات سے نمٹنے کے لئے مسلمانوں کی طرف سے کوئی عالمی اقدام نہیں ۔ یہ سب سے حیرت ناک ہے ۔

آج سے چند سالوں پہلے ہماری اپنی الگ پہچان، اپنا الگ رعب ودبدبہ، اپنی الگ شان وشوکت ، اپنی الگ بے مثال زندگی اور اپنا الگ خاص اسلامی طرہ امتیاز تھا۔کس قدر روشن اور تابناک تھا ہمارا ماضی ؟ کس قدر عروج پر ہم تھے؟ کیا ہی شان وشوکت تھی؟ کیا عظمت وسطوت تھی ؟ سب چلی گئی ۔اب چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا، پستی ہی پستی، ناکامی ہی ناکامی ، افسوس ہی افسوس، فریاد ہی فریاد۔

آخر کیا وجہ ہے کہ آج ذلت وپستی کے اس عمیق غار میں گرپڑے ہیں؟ وہ کون سے اسباب وعوامل ہیں جن کی وجہ سے ہماری یہ گت بنی ہوئی ہے ؟ گہرائی سے جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب اپنے کئے کرائے کا نتیجہ ہے جنہیں چند نکات میں نیچے بیان کیا جاتا ہے ۔

ہماری ذلت وپستی کے اسباب

(1) ترک قرآن : قرآن نوروہدایت اور کامیابی وکامرانی کا سرچشمہ ہے ،اس کا ترک ہرقسم کی ذلت وناکامی کا سبب ہے آج ہماری پستی کی سب سے اہم وجہ قرآن کو ترک کردینا ہی ہے ۔اللہ کا فرمان ہے : وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُوراً ( الفرقان: 30).

ترجمہ: اور رسول کہے گا کہ اے میرے پروردگار! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔

مشرکین قرآن پڑھے جانے کے وقت خوب شور کرتے تاکہ قرآن نہ سنا جاسکے ،یہ بھی ہجران ہے ، اس پر ایمان نہ لانااور عمل نہ کرنا بھی ہجران ہے، اس پر غوروفکر نہ کرنااور اس کے اوامر پر عمل اور نواہی سے اجتناب نہ کرنا بھی ہجران ہے ۔اسی طرح اس کو چھوڑ کرکسی اور کتاب کو ترجیح دینا ،یہ بھی ہجران ہے یعنی قرآن کا ترک اور اس کا چھوڑدینا ہےجس کے خلاف قیامت والے دن اللہ کے پیغمبر اللہ کی بارگاہ میں استغاثہ دائر فرمائیں گے ۔(تفسیر احسن البیان)

ابن القیم رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ہجر قرآن کی چند اقسام ہیں ۔

٭ قرآن کو سننے اوراس پر ایمان لانے کو ترک کردینا

٭ قرآن پر عمل اورحلال وحرام کی جانکاری چھوڑدیناگرچہ اس کو پڑھتاہواور اس پر ایمان بھی لاتا ہو۔

٭ قرآن کو فیصل بناناترک کردینااور دین کے اصول وفروع میں اس سے فیصلہ ترک کردینا اور اعتقاد رکھنا کہ یہ یقین کا فائدہ نہیں دے گااور اس کے لفظی دلائل سے علم حاصل نہیں ہوگا۔

٭ قرآن میں فہم وتدبر کرنےاور اس کی معرفت حاصل کرنے کو ترک کردینا

٭ ہر قسم کے قلبی امراض میں اس سے شفا اور علاج ترک کردینا اور غیروں سے بیماری میں شفا طلب کرنا اور قرآن سے علاج ترک کردینا۔

یہ پانچوں قسمیں قرآن کی مذکورہ آیت میں داخل ہیں ۔(الفوائد لابن القیم) 

(2) ایمان سے محرومی : اللہ تعالی نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ اگر تمہارے پاس ایمان رہا تو تم غالب رہوگے ۔ آخ ہماری پسپائی اس بات پہ غمازہے کہ ہم ایمان سے محروم ہوگئے ۔اللہ کا فرمان ہے : وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (آل عمران:139)

ترجمہ: تم نہ سستی کرواور نہ غمگین ہو ، تم ہی غالب رہوگے اگرتم ایمان والے رہو۔

اللہ تعالی اس آیت میں صحابہ کو خطاب کررہاہے کہ جنگ احد میں جو نقصان تمہیں لاحق ہوا اس سے غم نہ کھاؤ،اگر تم ایمان والے رہے تو تم ہی غالب رہوگے ۔ آج ہم کہنے کوتو مسلمان ہیں مگر ایمان کے تقاضے پورے نہیں کررہے ہیں جس کی وجہ سے ذلت وخواری ہمارا مقدر بن گئی ۔

ایک چھوٹی سورت میں اللہ نے کامیابی کے چار صفات ذکر کئے ہیں ،ان میں سے پہلی صفت ایمان ہے ۔

وَالْعَصْرِ ، إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ، إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ( العصر:1-3)

ترجمہ: بيشک سارے انسان گھاٹے میں ہیں، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور جنہوں نے آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی ۔

اگر ہم ان چاروں صفات (ایمان،عمل، دعوت،صبر)کو جمع کرلیں تو ہرقسم کی ناکامی ، ذلت اور ظلم سے بچ سکتے ہیں ۔

(3) اللہ کےا حکام اور سنت رسول کی نافرمانی : اللہ کی رحمت سے دوری کا ایک اہم سبب احکام اللہ اور احکام رسول سے روگردانی ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ ، كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (المائدۃ:78-79)

ترجمہ: نبی اسرائیل کے کافروں پر داؤد علیہ السلام اور عیسی علیہ السلام کی زبانی لعنت کی گئی ،اس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے ۔ آپس میں ایک دوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے روکتے نہ تھے ، جو کچھ بھی یہ کرتے تھے یقینا وہ بہت برا تھا۔

آیت بتلارہی ہے کہ بنی اسرائیل کے لئے لعنت کی وجہ نافرمانی اور حد سے تجاوز کرنا ہے ۔آج کے مسلمانوں میں بھی بنی اسرائیل کی یہ صفات پائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالی کے غضب کے شکار ہوگئے اور رحمت الہی سے محروم کردئے گئے ۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ (محمد:7)

ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔

یہاں اللہ کی مدد کرنے سے مراد اللہ کے دین کی مدد کرنا ہے یعنی ہم اللہ کے دین پر چلیں گے تو اللہ تعالی ہماری مدد کرے گا، کافروں پر غلبہ دے گا اور مصیبت وپریشانی سے نجات دے گا۔

(4) مسلک پرستی : مسلکی اختلاف نے ہمیں ٹکڑوں میں تقسیم کردیا بلکہ یہ کہیں جسم مسلم کو کاٹ کاٹ کر الگ کردیا۔ ہمارا سر الگ اور دھڑ الگ ہے ۔دشمنوں کے ہتھکنڈوں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جس قدر مسلک پرستی نے دین اسلام اور قوت مسلم کوپہنچا۔ ایک دوسرے کو کافر قراردینا، ایک دوسرے مسلمان سے شادی بیاہ ، لین دین اور قطع تعلق کرنا، ایک دوسرے کو نیچااور غلط ثابت کرنے کے لئے تلوارونیزے اٹھانا بلکہ کافروں سے بدترسلوک کرناآپس میں اس قدر شدید ہے کہ یہودیت ونصرانیت کی دشمنی ماندپڑگئی ۔ الحفظ والاماں

جب مسلمانوں میں متعدد فرقے پیدا ہوجائیں اور ہرفرقے کا مقصد اپنے خاص مسلک کی ترویج واشاعت اور دوسرے مسلک پر کیچڑ اچھالنا،اس کی توہین کرنا ہوتوپھر مسلمانوں میں خیروبھلائی ، اتحاداتفاق ، اخوت ومحبت اور عظمت وسطوت کہاں سے ہوگی ؟ مسلک پرستی کی بیماری نے ہماری صفوں میں دراڑ پیدا کردیا، بھائی کو بھائی سے الگ کردیا، آپس میں ایک دوسرے کو دشمن بنادیا، مسلم قوم کی عظمت کو تارتار اور رعب ودبدبہ کو پارہ پارہ کردیا اورقوت دین اسلام کو پاش پاش کرکے رکھ دیا۔

(5) دنیا سے محبت : دنیا کی محبت نے ہمیں دین سے غافل کردیا، مقصد حیات بھلادیااورموت کا ڈر دل میں پیدا کردیا۔بے ایمانی، رشوت خوری، حرام کاری، قماربازی، شہوت رانی، کالابازاری ، جہل ونادانی ، کفروعصیاں اور دولت کی کثرت سے عیش وشہوت کی زندگی ہمارا مشغلہ بن گیا۔ یاد رکھیں جب تک دل سے دنیا کی محبت دور نہ ہوگی ہمارے اندر سے مذموم صفات کا خاتمہ ناممکن ہے ۔

ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

يُوشِكُ الأممُ أن تداعَى عليكم كما تداعَى الأكَلةُ إلى قصعتِها . فقال قائلٌ : ومن قلَّةٍ نحن يومئذٍ ؟ قال : بل أنتم يومئذٍ كثيرٌ ، ولكنَّكم غُثاءٌ كغُثاءُ السَّيلِ ، ولينزِعنَّ اللهُ من صدورِ عدوِّكم المهابةَ منكم ، وليقذِفَنَّ اللهُ في قلوبِكم الوهْنَ . فقال قائلٌ : يا رسولَ اللهِ ! وما الوهْنُ ؟ قال : حُبُّ الدُّنيا وكراهيةُ الموتِ(صحيح أبي داود:4297)

ترجمہ: قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں، تو ایک کہنے والے نے کہا:کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہوگے،لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہوگے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں ”وہن” ڈال دے گا، تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول ! وہن کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈرہے ۔

شام، مصر،لبنان، عراق، فلسطین ،لیبیااور برما وغیرہ کے حالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کا مذکورہ فرمان صادق آرہا ہے۔ ایسا نہیں ہیں کہ ہم کمزور ہیں یا ہماری تعداد کم ہے بلکہ ہمارے اندر دنیا کی محبت پیدا ہوگئی جس نے دین سے غافل کردیا ، کثرت کے باوجود ہماری طاقت ختم ہوگئی اور ہم ریزہ ریزہ ہوگئے۔ 

موجودہ صورت حال کا علاج

ان کے علاوہ بھی دیگر وجوہات ہیں ان میں یہی پانچوں سب سے اہم ہیں ۔ اگر ہم پھر سے اپنی عظمت رفتہ بحال کرنا چاہتے ہیں اور ذلت ورسوائی ختم کرنا چاہتے تو مذکورہ بالا کمزوریوں کی اصلاح کرنی پڑے گی اور ساتھ ساتھ دشمنوں سے نمٹنے ، ان کے ظلم کا خاتمہ کرنے ، ان پر اپنا رعب ودبدبہ قائم کرنے کے لئے تین اہم کام کرنے ہیں ۔ 

(1) سب سے پہلے ہمیں اپنے حالات کا گہرائی سے جائزہ لینا ہوگا اور جن کمزوریوں کی وجہ سے نقصان اٹھارہے ہیں انہیں دور کرنا ہوگاکیونکہ اللہ کا فرمان ہے : 

وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ (الشوری :30)

ترجمہ: تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرمادیتا ہے ۔ 

اس لئے اپنے اعمال کا جائزہ لےکر غلطی کی اصلاح کرنی ہے ، ساتھ ہی یہ بات دھیان میں رہے کہ دین سے لاتعلقی تمام مصائب ومشکلات کی جڑ ہے ۔ آج ہماری مایوسی، آلام، مظالم، قتل وخون، ہرپریشانی کا سبب دین سے بیزاری اور لاتعلقی ہے ۔ ہمارے سامنے اس کی قرآنی مثال موجودہے جب بنی اسرائیل نے دین سے تغافل برتااور زمین میں فتنہ وفساد مچایا تو اللہ تعالی نے اس پر مجوسی کافروں کو مسلط کردیا جنہوں نے اس پر بیحد مظالم ڈھائے اور گھروں میں تباہی مچادی ۔ تو ہمیں بھی بنی اسرائیل کی اس مذموم صفت سے جو اس کی تباہی کا سبب بنی بچنا ہوگا اور دین اسلام سے گہرا تعلق پیدا کرنا ہوگا۔ صرف نام کے مسلمان بن کر دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتے چہ جائیکہ ہاتھ میں توپ وبندوق ہو ، اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ہمارے اندر” اصل اسلحہ “ایمانی قوت وطاقت موجود ہو۔ 

(2) اپنے حالات کو بہتر بنانے اور ظالموں سے مقابلہ کے لئے ہمیں بہترین فوج ، بہترین اسلحہ (زمانے کے لحاظ سے) اور کارگر قوت مدافعت کی ضرورت ہے ۔ اللہ کے کلام سے ان باتوں کا اشارہ ملتا ہے ۔ فرمان الہی ہے : وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ( الانقال : 60) 

ترجمہ: تم ان کے مقابلے کے لئے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کے تیار رکھنے کی کہ اس سے تم اللہ تعالی کے دشمنوں کو خوفزدہ رکھ سکو اور ان کے سوا اوروں کو بھی، جنہیں تم نہیں جانتے، اللہ تعالی انہیں خوب جانتا ہے۔ 

نبی ﷺ کے زمانے میں جنگوں میں تیروتلوار، نیزے اور گھوڑے استعمال ہوتے تھے ، ابھی کی قوت وطاقت توپ ، بم ، ٹینک ، میزائل ، بندوق اور ماہر فوجی و جنگی طیارے وغیرہ ہیں ۔مقابلہ کے لئے ایمانی قوت کے ساتھ دنیاوی طاقت بھی چاہئے ۔ 

(3) ایک تیسرا اہم کام سارے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے ۔ جب تک ہم ایک نہیں ہوں گے پسپائی ہی مقدر ہوگی ۔ قوت وطاقت اور کامیابی وکامرانی کا راز اتحاد واتفاق میں مضمرہے ۔ اس بات کا اندازہ ایک چھوٹی سی مثال سے لگاسکتے ہیں کہ ایک آدمی ایک لکڑی کو بآسانی توڑ سکتا ہے لیکن جب لکڑیوں کو جمع کرکے توڑے تو نہیں توڑسکتا کیونکہ اب لکڑیاں متحد ہوگئیں۔ اسی لئے اللہ تعالی نے ہم سب کو مجتمع ہونے کا حکم دیا ہے ۔ فرمان رب العالمین ہے : وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا (آل عمران: 103)

ترجمہ: اور تم سب مل کر اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور تفرقہ بازی نہ کرو۔ 

یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں متعدد فرقے ہیں ان سارے فرقوں کو کیسے جمع کیا جائے ؟ واقعی یہ ایک دشوارکن مرحلہ ہے لیکن اس کا طریقہ اور حل ہے ۔

اولا : آپسی تنازعات کو ختم کریں کیونکہ جب آپس میں ہی ہم ایک دوسرے کے دشمن رہیں گے تو ہمارے اصل دشمن ہمیں میں سے آدمی خرید کر ہمارے خلاف استعمال کرے گا اور کر بھی رہے ہیں ۔ آپسی اختلاف کمزوری کی بڑی وجہ ہے ۔ اللہ نے ہمیں آپس میں تنازع کرنے سے منع کیا ہے : 

وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ(الانفال: 46)

ترجمہ: اور آپس میں تنازع نہ کرو ورنہ بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر سے کام لو بے شک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

ثانیا : ہم سب ایک عقیدہ بنائیں جو قرآن و حدیث کا عقیدہ ہواس میں مسلک کا ، ذات کا ، کسی خاص فقہ کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔ یعنی شریعت الہیہ سے ثابت شدہ عقائد پر ایمان لائیں اور اپنے تمام تر مسائل و امور میں شریعت کی طرف ہی التفات کریں جیساکہ اللہ تعالی نے حکم دیا ہے : 

فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (النساء : 59)

ترجمہ: تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹاؤ اگر تمہیں اللہ تعالی پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے ۔ یہ بہت بہتر اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے ۔ 

ثالثا: عقیدہ میں یکسانیت کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارا مشن وہدف ایک ہواور وہ ہے اعلائے کلمۃ اللہ ۔ 

ہمارے یہاں یہ تینوں خرابیاں پائی جاتی ہیں ، آپسی تنازعات شدید ہیں ، قسم کے قسم کے عقائد پائے جاتے ہیں اور ہم میں متعدد فرقے پائے جاتے ہیں جن میں سب کے اہداف ومقاصد مختلف ہیں ، کوئی تقلید کو ہوا دے رہاہے ، کوئی بدعات کی نشر واشاعت میں لگاہے تو کوئی صوفیت کو پھیلانا مقصد زندگی بنالیا ہے ۔ 

مذکورہ بالا تین اہم کام اگر ہم کرلیں تو پھر سے ہماری شان وشوکت بحال ہوسکتی ہے ، ذلت وپستی سے ابھرسکتے ہیں اور اللہ کی طرف سے رحمتوں ، نصرتوں ، برکتوں کا نزول ہوسکتا ہے اور دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ۔ 

اے اللہ ہم سب کو ایک کردے، نیک بنادے اور دشمنوں پر غلبہ عطا فرما۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *